Jay Rogers
Director:
Jay Rogers

Recent Posts

The Forerunner

تثلیث : باپ ، بیٹا ، اور روح القدس

By Nosheet Gloria
Published April 1, 2009

تثلیث کیا ہے؟
سادہ طور پر بیان کیا گیا : “ تثلیث ایک جوہر(substantia) میں تین اشخاص (personae) ہیں۔”

“تثلیث میں ہم ایک خدا کی عبادت کر تے ہیں ، اور تثلیث اتحاد میں ہے ، نہ اشخاص کو غارت کرنا ، ناہی جوہر کو تقسیم کرنا“۔ (ایتھینیس عقیدہ)
اِس باب میں ، ہم تثلیث کی جانچ کریں گے ۔ ایمان اِس میں بنیاد ہے ، اِس کے علاوہ اکثر نظر انداز کی گئی سچائی ، ہماری نجات کے لیے ضروری ہے ۔ تثلیث پر ایمان کے بغیر ، ہم خدا میں بچائے جانے والے ایمان کو رکھنے کا دعویٰ نہیں کر سکتے ۔

نئے عہد نامے کے شاگرد ، ناصرف 11بلکہ 120کا بڑا گروہ جنہیں پینتیکوست پر روح القدس کے بپتسمہ کے وسیلے قوت بخشی گئی تھی ، تثلیثی خدا کی تعلیم کو سمجھنا تھا اور اُس کے عمیق تجربہ کے ذریعے تعلیم دینا تھا ۔ یہودیوں کی مانند ، اِس پہلی صدی کے ایمانداروں نے ایک خدا پر ایمان رکھنے کو جاری رکھا اور اُسے نا م دیا جیسے بہت سے پہلے مسیحی یہودیوں نے کیا تھا ۔

لیکن اُنہوں نے خدا وند کو بھی یسوع مسیح کی شخصیت میں دیکھا تھا ۔ وہ پینتیکوست پر ملکیت اختیار کرنے کے بعد قائل تھے کہ اِسی قوت نے یسوع میں کام کیا جو اُن میں تھی اور اُس خدا وند کو روح القدس کی شخصیت کے وسیلہ پایا گیا تھا ۔ وہ بلا شُبہ مسیح کا بدن تھے جنہوں نے آنے والے زمانے کی طاقت کا ذائقہ چکھا تھا ۔ اب جیسے یہودیوں نے ، اِس تعلیم کی تصدیق کی کہ ” خدا ایک ہے“ وہ خدا کے لیے ” باپ ، بیٹے ، اور روح القدس : ایک میں تین“ کے بارے سوچنے کےلیے حیران نہیں تھے ۔
نئے عہد نامے کی کلیسیاء کے لیے ، تثلیث یہ تھی ، ناگزیر ضابطہ عمل اور ضروری سچائی ۔ اب یہ دوسری صدی تک ایسا نہیں تھا کہ تثلیث کی تعلیم شعوری بحث کا مرکز بنا۔ پہلی صدی کے شاگردوں کا تجربہ بے مثال تھا : اُنہوں نے یسوع کو مجسم ہوتے دیکھا تھا ۔ ہم آج تثلیث کے بارے پہلی صد ی کی تحریروں ، علامات اور تعلیمات کی اصطلاحات میں تمام سوالوں کا جواب نہیں دے سکیں گے ۔ اگرچہ تعلیم کے طور پر ، تثلیث بعد ازاں ابتدائی سالوں میں، آرتھو ڈکس مسیحیت کی تمیز کرنے والی نمایاں صفت بنی ، تثلیثی خدا کی تعلیم عالمگیر مملکت، کامل رضا مندی میں باقی تھی ۔

پُرانے عہد نامے کی گواہی:

سُن اے اسرئیل! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے (استثناء 6:4)۔

قدیم اسرئیل پُرانے زمانوں میں چند ایک خدا کو ماننے والی تہذیبوں میں سے ایک تھا ۔ اگرچہ کچھ دوسرے قدیم مذاہب نے ” خدا ایک ہی خداوند“ اسرئیل کے خدا ، یہوواہ، کی فضیلت کو سکھایا ، جو قدیم زمانوں کا صرف بے خطا خدا تھا ۔ بلا شُبہ دوسری تہذیبوں کے خداوں نے بے خطا ہونے کا دعویٰ نہی کیا ، لیکن کسی چیز پر قائم خدوخال اور ہو بہو انسانی خطا کا دعویٰ کیا ۔ کچھ خدا ( دیوتا) قدیم دُنیا کا کھنچا گیا خاکہ تھے جو فانی تھے اور دوسرے خداﺅں سے شکست کھانے والے اور مارے جا سکتے تھے ۔ اُن میں کامل علم کی کمی تھی اور کچھ خیر خواہ ہونے کی تصویر تھے ۔ عبرانیوں کا خدا ابدی بے خطا ہونے کے اپنے دعویٰ میں بے مثال تھا ۔ ساری وافر سچائی اُس میں موجود تھی ۔

یہ سب کچھ تُجھ کو دکھایا گیا تا کہ تُو جانے کہ خداوند ہی خدا ہے اور
اُس کے سِوا اور کوئی ہے ہی نہیں ( استثنا 4:35)۔
یہوواہ میں ہوں ، یہی میرا نام ہے ، میں اپنا جلال کسی دوسرے کے لیے اور اپنی حمد کھودی ہوئی مورتوں کے لیے روا نہ رکھوں گا۔ (یسعیاہ42:8)
خداوند اسرئیل کا بادشاہ اور اُس کا فدیہ دینےوالا رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ میں ہی اول اور میں ہی آخر ہوں اور میرے سوا کوئی خدا نہیں ۔ (یسعیاہ44:6)

بائبلی بیان میں : ” سُن اے اسرئیل ! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے (استثنا ئ6:4)۔ ” ایک “ کے لیے عبرنی لفظ ویسا لفظ نہیں جیسا کہ کامل ہے ( عدد کو شمار کے لیے استعمال کیا گیا ) لیکن اِسے ” واحدانیت“ کے طور پر بھی ترجمہ کیا جا سکتا ہے ۔ پُرانے عہد نامے میں خدا کی واحدانیت کے دباﺅ میں بعض اوقات خدا تعالیٰ میں تین مختلف اشخاص کے نشان پر محیط ہے ۔ خدا بعض اوقا ت اپنے آپ کی صیغہ جمع کے طور پر بات کرتا ہے ، اقتباسات جو مسیحا کی بات کر تے ہیں اشارہ کر تے ہیں کہ وہ واضح شخص ہے ، بیٹے کو اکثر ” یہوواہ کے فرشتے“ کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے ، جسے الہی شخص کے طور پر کہا گیا ہے ، روح کو بھی واضح شخص کے طور پر کہا گیا ہے ۔
پھر خدا نے کہا ” پھر خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اور آسما ن کے پرندوں اور چوپاءیوں اور تمام زمین اور سب جانداروں پر جو زمین پر رینگتے ہیں اختیار رکھیں ‘ ‘ ( پیدائش 1:26)۔
”سو آﺅ ہم وہاں جا کر اُنکی زبان میں اختلاف ڈالیں تاکہ وہ ایک دوسرے کی بات سمجھ نہ سکیں ۔“ (پیدائش 11:7)۔
پھر خداوند ممرے کے بلوطوں میں اُسے نظر آیا اور وہ دن کو گرمی کے وقت اپنے خیمہ کے دروازہ پر بیٹھا تھا ۔ اور اُس نے اپنی آنکھیں اُٹھا کر نظر کی اور کیا دیکھتا ہے کہ تین مرد اُس کے سامنے کھڑے ہیں ۔ وہ اُنکو دیکھ کر خیمہ کے دروازہ سے اُن سے مِلنے کو دوڑا اور زمین تک جھُکا ۔ اور کہنے لگا کہ اے میرے خداوند اگر مُجھ پر آپ نے کر م کی نظر کی ہے تو اپنے خادم کے پاس سے چلے نہ جائیں ۔ بلکہ تھوڑا سا پانی لآیا جائے اور آپ اپنے پاﺅں دھو کر اُس درخت کے نیچے آرام کریں ۔ میں کچھ روٹی لاتا ہوں ، آپ تازہ دم ہو جائیں ، تب آگے بڑھیں کیونکہ آپ اِسی لیے اپنے خادم کے ہاں آئے ہیں ۔“ اُنہوں نے کہا جیسا تُو نے کہا ویسا ہی کر ۔ “ (پیدائش 18:1۔21)۔
” یہواہ نے میرے خداوند سے کہا تُو میرے دہنے ہاتھ بیٹھ جب تک کہ میں تیرے دُشمنوں کو تیرے پاﺅں کی چوکی نہ کر دوں ۔ خداوند تیرے زور کا عصا صیحون بھیجے گا ۔ تُو اپنے دُشمنوں میں حکمرانی کر ۔ لشکر کشی کے دن تیرے لوگ خوشی سے اپنے آپ کو پیش کر تے ہیں ۔ تیرے جوان پاک آرائش میں ہیں اور صبح کے بطن سے شبنم کی مانند ، خداوند نے قسم کھائی ہے اور پھرے گانہیں کہ تُوملکِ صدق کے طور پر ابد تک کاہن ہے ۔ خداوند تیرے دہنے ہاتھ پر اپنے قہر کے دن بادشاہوں کو چھید ڈالے گا ۔ وہ قوموں میں عدالت کرے گا وہ لاشوں کے ڈھیر لگا دے گا ۔ اور بہت سے مُلکوں میں سروں کو کُچلے گا ۔ وہ راہ میں ندی کا پانی پئے گا اِس لیے وہ سر بُلند کرے گا ۔ ( زبور110)۔
میرے نزدیک آﺅ او ر یہ سُنو ، میں نے شروع ہی سے پوشیدگی میں کلام نہیں کیا ، جس وقت سے کہ وہ تھا ۔ میں وہیں تھا اور ا ب خداوند خدا نے اور اُس کی روح نے مُجھ کو بھیجا ہے “ (یسعیاہ48:16)۔
خداوند خدا کی روح مُجھ پر ہے کیونکہ اُس نے مُجھے مسح کیا ، تاکہ حلیموں کو خوشخبری سُناﺅں، اُس نے مُجھے بھیجا ہے کہ شکستہ دلوں کو تسلی دوں ، قیدیوں کے لئے رہائی اور اسیروں کے لیے آزادی کا اعلان کروں، تاکہ خداوند کے سالِ مقبول کا اور اپنے خداوند کے انتقا م کے روز کا اشتہار دوں اور سب مسکینوں کو دلاسا دوں (یسعیاہ61:1،2)۔
”میں خداوند کی شفقت کا ذکر کروں گا ، خداوند ہی ستائش ۔ اُس نے سب کے مطابق جو خداوند نے ہم کو عنایت کیا ہے اور اُس بڑ ی مہربانی کا جو اُس نے اسرئیل کے گھرانے پر اپنی خاص رحمت اور فراوان شفقت کے مطابق ظاہر کی ہے۔ کیونکہ اُس نے فرمایا ، یقیناً وہ میرے ہی لوگ ہیں ، ایسی اولاد جو بے وفائی نہ کرے گی چنانچہ وہ اُن کا بچانے والا ہوا ۔ اُن کی تمام مصیبتوں میں وہ مصیبت زدہ ہوا ، اور اُس کے حضور کے فرشتہ نے اُن کو بچایا اُس نے اپنی الفت اور رحمت سے اُن کا فدیہ دیا ، اُس نے اُن کو اُٹھآیا اور قدیم سے ہمیشہ اُن کو لیے پھر ا ۔ لیکن وہ باغی ہوئے اور اُنہوں نے اُس کی روح ِقدس کو غمگین کیا ۔ اِس لیے وہ اُن کا دُشمن ہو گیا اور اُن سے لڑا ، پھر اُس نے اگلے دنوں کو اور موسیٰ کو اور اپنے لوگوں کو یاد کیا اور فرمایا وہ کہاں ہے جو اُن کو اپنے گلہ کے چوپانوں سمیت سمندر سے نکال لایا ؟ وہ کہاں ہے جس نے اپنی رو ح قدس اُن کے اندر ڈالی ؟( یسعیاہ63:7۔11)

نئے عہد نامے کی گواہی:

تثلیث کو سمجھنے کے لیے یکساں طور پر اہمیت پُرانے اور نئے عہد نامے کا دعویٰ ہے کہ خدا کا کلام بے خطا ہے ۔ پاک اور بے خطا خدا کو لازماً پاک اور بے خطا کلام کو رکھنا تھا ۔ یہاں مقابلہ کرنے والی خدائی یا کوئی اور مقابلہ کرنے والا کلام نہیں ہو سکتا ۔ خدا کی بے خطائی اور واحدانیت اور اُس کا کلام بائبل کے ایک خدا کو ماننے والوں کے دل پر ہے ۔
نئے عہد نامے میں ، خدا کے کلام کی شناخت کو یسوع مسیح ، خدا کے بیٹے کے طور پر آشکارہ کیا گیا ہے : ” ابتدا میں کلام تھا اور کلام خد اکے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا ۔۔۔۔ اور کلام مجسم ہو ااور فضل اور سچائی سے معمور ہو کر ہمارے درمیان رہا اور ہم نے اُس کا ایسا جلال دیکھا جیسا باپ کے اِکلوتے کا جلا ل۔ ( یوحنا 1:1،14)
اب نئے عہد نامے کی خدا کی تعریف بالکل ” واحدانیت “ کی طرح ہے جسے ہم پُرانے عہد نامے میں پاتے ہیں ۔ پولس لکھتا ہے ، ” اگرچہ آسمان و زمین میں بہت سے خدا کہلاتے ہیں ۔۔۔۔ لیکن ہمارے نزدیک تو ایک ہی خدا ہے یعنی باپ جس کی طرف سے سب چیزیں ہیں اور ہم اُسی کے لیے ہیں ۔“
رسولی ذہن کے لیے یہاں ” ایک خدا ہے ۔۔۔ اور ایک خداوند یسوع مسیح “ ( 1کرنتھیوں8:5،6)۔ رسولی ذہن کے لیے یہاں سادہ سی بصیرت بھی ہے کہ ایک خدا کو آشکارہ کیا گیا ہے اور آدمیوں کے لیے تین اشخاص” باپ اور بیٹے اور روح القدس“ کے طورپر بیان کیا گیا ہے ( متی28:19) ۔
یہاں پیچیدہ وضاحتیں نہیں دی گئی ہیں ، اگرچہ یوحنا پُرانے عہد نامے کے کسی لکھاری کے طور پر یسوع مسیح کی شخصیت پر بہت فیصلہ کُن تھا ۔ ” وہ اکلوتا بیٹا ہے ، جو باپ کی گود میں ہے ۔۔۔۔ ( یوحنا 1:8)۔
” کیونکہ خدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایما ن لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے“(یوحنا3:16)۔
یوحنا سے ، ہمیں سکھایا گیا کہ جیسے بیٹا باپ سے آگے بڑھتا ہے ، روح القدس دونوں باپ اور بیٹے سے طرزِ عمل اختیار کرتا ہے ، ” لیکن جب وہ مدد گار آئےگا جس کو میں تمہارے پاس باپ کی طرف سے بھےجونگا یعنی روحِ حق جو باپ سے صادر ہوتا ہے تو وہ میری گواہی دے گا ۔“ یوحنا15:26)۔
خد ا میں تین اشخاص یوحنا کی تحریروں میں بار بار تفصیل وار بیان کیے جاتے ہیں : لیکن مدد گار یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سب یھجے گا وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تُم سے کہا ہے وہ سب تُمہیں یاد دلائے گا ۔۔۔“( یوحنا14:26)۔
دوسری انجیل کی سرگزشت باپ اور بیٹے اور روح القدس کے درمیا ن امتیاز کو دکھاتی ہے جو شاگردوں سے گواہی تھی ۔ یسوع کے بپتسمہ پر ،”۔۔۔ اُس نے خدا کے روح کو کبوتر کی مانند اُترتے اور اپنے اوپر اآتے دیکھا ۔ اور دیکھو آسمان سے یہ آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میں خوش ہوں ۔ “ (متی3۔16۔17)۔
بڑے اختیار میں ، متی کی انجیل کے اختتام پر ، یسو ع اپنے شاگردوں جو بپتسمہ کا حکم دیتا ہے ۔”اُنکو باپ بیٹے اور روح القدس کے نام پر بپتسمہ دو۔ ( متی28:19)
دوسرے نئے عہد نامے کے مصنفین جنہوں نے خدا کے تین اشخاص کا تعین کیاوہ پولس ، پطرس اور یہوداہ ہیں ۔
” خداوند یسوع مسیح کا فضل اور خدا کی محبت اور روح القدس کی شراکت تُم سب کے ساتھ ہوتی رہے ۔“ (2کرنتھیوں13:14)۔
اور خدا باپ کے علمِ سابق کے موافق روح کے پاک کرنے سے فرمانبردار ہونے اور یسوع مسیح کا خون چھڑکے جانے کے لیے برگزیدہ ہیں۔“(1پطرس1:2)
”جو خدا باپ میں عزیز اور یسوع مسیح کے لیے محفوظ ہیں ۔۔۔۔اپنے پاک ترین ایمان میں اپنی ترقی کر کے اور روح القدس میں دعا کر کے ۔ اپنے آپ کو خدا کی محبت میں قائم رکھو اور ہمیشہ کی زندگی کے لیے ہمارے خداوند یسوع مسیح کی رحمت کے منتظر رہو ۔“ ( یہوداہ1،20،21)۔
”اور جو گواہی دیتا ہے وہ روح ہے(یوحنا یسوع کو کلام کے طور پر پیش کر تا ہے ۔ لوگوز ، یوحنا1:1) کیونکہ روح سچائی ہے ( 1یوحنا5:7)

اصطلاح : تثلیث
اصطلاح تثلیث نئے عہد نامے میں ظاہر نہیں ہوتی ، بہر حال ، ” باپ ، بیٹا اور روح القدس“، بار بار ظاہر ہوتے ہیں ۔ خدا کو تفصیلی طور پر بیان کرنے کے ضرورت پہلی صدی کے آخر پر پیش آئی جب عیساءیوں کا فرقہ اپنے مشرک اثر کے ذریعے ایک بدعت کا سبب بنا اِس تعلیم کے ساتھ کہ مسیح یا لوگوز
( یوحنا1۔1)کم تر خدا تھا ۔ یہ دھمکی ابتدائی کلیسیاکو ایک کُشادہ فرقہ اختیار کرنے کا سبب بنا جسے ” رسولوں کا فرقہ“ کہا گیا ، جو بارہ شاگردوں کے ایمان کے بیانات پر مشتعمل تھا اور لکھے ہوئے کلام اور پہلی صد ی کے شاگردو ں کی زبانی تعلیم سے اخذ کیا گیا تھا ۔
سادہ ترین اقرار : ” یسو ع خداوند ہے ، 1کرنتھیوں12: 3میں پایا گیا ہے ۔ دوسرے عقیدے جیسے کہ : ” ایک خدا ، ایک بپتسمہ ، ایک خدا اور سب کا باپ “
( افسیوں4:5،6)، سادہ طرح ایک خدا پر ایمان کا اقرار تھے ۔ رسولو ں کا عقیدہ نئے عہد نامے میں پائی گئیں دعاﺅں کی تفصیل تھا۔ اِن اقراروں ، doxologies اور دعاﺅں کے علاوہ ایک فرقہ اُٹھا جسے پہلے بپتسمہ پر ایمان کے اقرار پر استعمال کیا گیا : اور اُن کو باپ بیٹے اور روح القدس کے نام سے بپتسمہ دو“ ( متی28:19)
اِسی اثنا میں ، دوسرے فرقے سکھا رہے تھے کہ یسوع اور لوگوز ، یا مسیح ، علیحدہ خدا تھے ۔ اُنہوں نے انجیل کے لیے Greco مظاہر پرست الہیات اختیار کی ہوئی تھی ۔ پہلی صدی کے اختتام پر ، تفرقے فرقوں کا سبب بنے سنگین تھے کہ رسولی باپ نے درجہ بدرجہ ایمان کے بیان کو دانستہ اور کُشادہ شکل دی جو علمِ راسخ کو جھوٹا ثابت کرنا تھا ۔
جامع ، کُشادہ اور واضح ، رسولی عقیدہ با ضابطہ تھا جیسے بدعتی فرقہ کے خلا ف جوابدہی جس نے ابتدائی کلیسیا کو دھمکآیا۔ رسولوں کا عقیدہ ، یا اقرار ایک کے قریب ہے جسے ہم آج رکھتے ہیں ، یہ پہلی صدی کے اختتام پر یا دوسری صدی کے آغاز پر تھا ۔ اِس عقیدے کے ساتھ ، ثابت قدمی کے ساتھ نئے عہد نامے کے کلام کی بنیاد پر جسے رسولو ں سے لکھا گیا تھا ، اور پہلی صدی میں اور ابتدائی دوسری صدی میں رسولی فادرز کی مزید لمبی چوڑی تحریروں سے اشارے کنائے میں کہا گیا ، تثلیث کی مزید تفصیلی وضاحت ظاہری شکل و صورت کے لیے شروع ہوئی۔

تثلیث ایک بائبلی تعلیم ہے:
اگرچہ کلیسیائی ماہرِ الہیا ت کی وسیع اکثریت مندرجہ بالا تثلیث کے بارے کہے گئے اقتباسات کے ساتھ مطمئن تھے ، سوال اب بھی کچھ حصو ں میں اُسی طرح قائم ہے ۔ جبکہ ہمارے پاس رسولوں کی جانب سے لکھی گئیں اور تحریریں نہیں جو اِس کا دوعویٰ کر تی ہیں ، سوائے خود کلامِ مقدس کے ، ہم آگے مزید دو اور گروہوں پر غور کریں گے : رسولی فادرز اور دلائل سے ثابت کرنے والے ۔
رسولی فادرز مسیحی ہیں جنہوں نے پہلے ابتدائی کلیسیا کے عرصہ ، یا رسولی زمانے( 33عیسویٰ سے 96عیسویٰ ) کے دوران مسیح پر ایمان رکھا ۔ 33عیسویٰ پینتیکوست کے سال کی نمائندگی کرتا ہے اور96عیسویٰ ےوحنا رسول کی موت کے لیے ابتدائی ممکنہ تاریخ کی نمائندگی کرتا ہے ، جو رومی حکمران Domitian کے دورِ حکومت کے بعد کسی وقت مرا ۔
تین رسولی فادرز ، روم کا کلیمنٹ ،سمرانہ کا پولی کریپ ، اور انطاکیہ کا اگنیشیس، بشپ تھے جو شاگردوں میں سے ایک سے مقرر کئے گئے تھے ۔
ہم جانتے ہیں کہ پولی کریپ یوحنا کا شاگرد تھا اور کلیمنٹ کو پطرس سے معین کیا گیا تھا ۔ اگنیشیس کے بارے سوائے اُس کے سات خطوط کے زیادہ نہیں جانا جاتا ہے جو اشارہ کر تے ہیں کہ وہ پولی کریپ کے ساتھ ذاتی شناسائی رکھتا تھا اور یہ کہ وہ رسولی اختیار رکھتا تھا ۔ ہمارے لیے تحریریں اِن تین آدمیوں سے لکھی گئیں جو اختیار رکھتے تھے کیونکہ اُنہیں اُن رسولوں سے ہدایت کی گئی تھی جنہوں نے خداوند کو دیکھا تھا ۔ یہ خطوط کلام کے طور پر ایک جیسے اختیار کے ساتھ بانٹے نہیں جاتے اور بے خطا تعلیمات کے لیے حاصل نہیں کئے جاتے ۔
آدمیوں کو اگلا گروہ دلائل سے ثابت کرنے والے ہیں ، جو ایمان کے حماعتی تھے ، نسل جو رسولی فادرزکے بعد تھی ۔ دلائل سے ثابت کرنے والے 100عیسویٰ سے175عیسویٰ تک زندہ رہے ، جبکہ رسولی فادرز پہلی اور دوسری صدیوں سے بڑھ کر رہے ۔ آرنیس اور اتھیناگروس اِس دوسرے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ٹرٹولین ، آخری دلائل سے ثابت کرنے والا ، تیسری صد ی میں زندہ تھا ۔
بہت سے لوگ تثلیث کی تعلیم کے ساتھ منسوب ہیں خواہ وہ ٹرٹولین کے ہیں یا 325عیسویٰ کی نائیسین کونسل کے لیے ہے ۔ رسولی فادرز اور دلائل سے ثابت کرنے والوں کی تحریروں پر غور کرنے سے ، بہر حال ، ہم تثلیث کے مضبوط تصور کو دیکھیں گے جو اُس تاریخ سے بہت عرصہ پہلے تھا جب کلیسیا کسی تاریخی نقطے پر تھی ( عموماًکانسٹنٹائن کے دورِ حکومت میں ، 325عیسویٰ ) ۔

رسولی فادرز کی تحریریں:
تثلیث رسولی فادرز سے سکھائی گئی تعلیم تھی ۔ اُنہوں نے اپنی روایت کو بارہ رسولوں اور پولس رسول سے حاصل کیا تھا ۔ تعلیم کو پہلی صدی کے وقت عقائد ، رسولی سقراطی طریقے ، یا لکھی گئی علامتوں سے زبانی وصیت کے طور پر دیا گیا تھا ۔ کلامِ مقدس کی توضیح میں ، ہم تثلیث کی مضبوط روایت کو پہلی صدی کے اختتام پر اور دوسری صدی کی ابتدا پر رسولی فادر ز اور دلائل سے ثابت کرنے والو ں کی تحریروں میں پاتے ہیں ۔
ہم رسولی فادر ز کی تحریروں کا قیاس کریں گے جنہیں نئے عہد نامہ کے رسولوں سے اُنہیں سونپی گئے تھیں ۔ رسولی فادرز تثلیث کی قائم کی گئی تعلیم کو رکھتے تھے ۔ یہ تعلیم یسوع مسیح کے شاگردوں سے دوسر ی صدی کے رسولی فادرز کو وصیت کے طور پر دی گئی تھی ( 96عیسویٰ سے 175عیسویٰ ) ۔ قائم کی گئی تثلثی تعلیم 175عیسویٰ سے پہلے کلیسیا میں وجود رکھتی تھی ( ٹر ٹولین کی تحریر کے وقت ) ۔ یہ تعلیم اِس وقت سے پہلے مکمل نسل کی مسیحی تحریروں میں وجود رکھتی تھی ۔
اگرچہ اُنہوں نے ٹرٹولین کی طرف سے کیئے گئے سوالات کا کبھی جواب نہیں دیا ، رسولی فادرز تثلیث کا مضبوط تصور رکھتے تھے ۔ رسولوں کے خدا کا مکاشفہ کو کبھی الفاظ میں بیا ن نہیں کیا جا سکتا (2کرنتھیوں12:4)، لیکن عقائد اور علامتوں کے ذریعے اُنہوں نے اپنی تعلیم کا استعمال کیا ، تثلیث کی سچائی کو عنایت کیا گیا تھا اور اِسے وسیع طور پر ابتدائی کلیسیاء میں قبول کیا گیا تھا ۔
رسولی فادرز کی تعلیم مضبوط اختیار رکھتی تھی جبکہ اُن کی خدمت کی رسولوں کے ہاتھوں سے ابتدا کی گئی تھی ۔ روح القدس کے ساتھ اُن کے تجربہ کی گواہی کے طور پر ، اور زبانی فرقوں کے ذریعے جو اُن کے لیے پہلی صد ی کے مسیحیوں سے آگے نکل گئے تھے ، وہ رسولی عقیدے کے الفاظ کےلیے اپنی تحریروں میں وافر اشارے رکھتے ہیں ۔

کلیمنٹ آف روم۔96عیسویٰ:
آئیں جمے رہتے ہیں ، اِسی لیے ، معصومیت اور راستی کے لیے ، جب تک کہ یہاں خدا کے منتخب شُدہ ہیں ۔ کیوں یہاں آپ کے درمیان نزاع ، دنگا ،تقسیم اور تفرقہ اور جنگیں ہیں ؟کیا ہم ایک خدا اور ایک مسیح نہیں رکھتے ؟ کیا یہاں ایک روح کا فضل ہم پر انڈیلا نہیں گیا ؟ اور کیا ہم ایک مسیح کو نہیں پُکارتے ؟“ کلیمنٹ کا خط 46:17،18)۔

سمرانہ کا پولی کریپ ۔ 110۔117عیسویٰ:
لیکن ہمارے خداوند یسوع مسیح کا خدا اور باپ ، اور یسوع مسیح خود ، جو خدا کا بیٹا ہے ، اور ہمارا ابدی کاہنِ اعظم ہے ، ایمان اور سچائی میں ، اور تمام نرم مزاجی ، شائستگی ، صبر ، برداشت ، تحمل ، اور پاکیزگی میں آپ کو قائم کرے ، اور وہ آپ پر انبار اور اپنے مقدسین کا درمیانی حصہ انڈیلے ، او ر آپ کے ساتھ ہم پر ، اور اُن سب پر جو آسمان نیچے ہیں ، جو ہمارے خداوند یسوع ،اور اُس کے باپ پر ایمان رکھیں گے، جس نے اُسے مُردوں میں سے جلآیا “ ( پولی کریپ کا خط 12:2)۔

انطاکیہ کا اگنیشیس ۔ 110۔117عیسویٰ:
”۔۔۔۔خداوند کی مرضی ، اور یسوع مسیح ، ہمار ے خداوند کی طرف سے سچے جذبے کے ذریعے متحد ہونا اور منتخب ہونا ۔۔۔۔“(اگنیشیس کی جانب سے افسیوں 1:1)

لیکن ہماری طبیب صرف سچا خدا ، جنا ہوا او ر نا آشنا ، سب کا خداوند ، باپ اور اکلوتے بیٹے کو پیدا کرنے والا ہے ۔ ہم طبیب کے طور پر خداوند اپنے خدا ، یسوع مسیح ، اکلوتے بیٹے اور کلام کو ، وقت شروع ہونے سے پہلے رکھتے ہیں ، لیکن جو بعد ازاں ، کنواری مریم سے انسان بھی بنا ۔ ” کلام مجسم ہوا“ ( اگنشیس کی جانب سے افسیوں7:6۔8)
خداکے وعد ے کے مطابق ، خداوند یسوع مسیح تھا ، جو داﺅد کی نسل سے تھا جو روح القدس کے وسیلے کنوار ی مریم کے رحم میں پڑا۔ “( اگنیشیس سے افسیوں18:2،3)
”۔۔۔ ایک ایمان میں ، اور یسوع مسیح میں ، جو بدن کے مطابق داﺅد کی نسل سے تھا ، دونوں ابنِ آدم اور ابنِ خدا ہوتے ہوئے ۔۔۔۔“ اگنیشیس افسیوں20:2کو )
میں نے کلیسیاﺅں کی تعریف کی، جن میںِ میںَ دونوں یسوع مسیح کے بدن اور روح کے اتحاد کے لیے دعا کی ، آپ کی زندگی کا مثبت ذریعہ ، اور ایمان اور محبت ، جس کے لیے کسی چیز کو فوقیت نہیں دی جاتی ، لیکن خاص طور پر یسوع اور باپ کو ، جن میں ، اگر ہم اِس دُنیا کے شہزادے کے تمام حملوں کو برداشت کر تے ہیں ، اور ہم اُن سے بچتے ہیں ، ہم خداوند سے لطف اندوز ہونگے ۔“ ( اگنیشیس کی جانب سے میگنیشیس 1:2کو )
” وہ ، وقت کی ابتدا سے پہلے باپ سے پیدا کیا گیا ، خدا کا کلام تھا ، اکلوتا بیٹا ، اور جو ہمیشہ یکساں رہتا ہے ، اُس کی بادشاہت کا آخر نہ ہو گا ، دانی ایل نبی کہتا ہے ۔“ (اگنیشیس کی طرف سے مگنیشیس 6:4۔6کو)
” اِس حساب میں اُنہیں بھی ایذا دی گئی ، مکمل طور پر بے یقینی سے قائل ہوتے ہوئے فضل سے متاثر ہوتے ہوئے کہ یہاں ایک خدا ہے، قادرِ مطلق ہے ، جواُس کے بیٹے یسوع مسیح کے وسیلے اپنے آپ کو آشکارہ کر چُکا ہے ، جو اُس کا کلام ہے ، نہ کہا گیا ، لیکن ضروری ۔ کیونکہ وہ جُڑواں خیالات کے اظہار کی آواز نہیں ہے ، بلکہ الہی قدرت سے بیٹے کا ظہور ہے ، جس نے سب چیزوں میں اُسے خوش رکھا جس نے اُسے بھیجا “( اگنےشےس کی جانب سے مگنیشینس 8:4،5 کو)

دلائل سے ثابت کرنے والے:
رسولی فادرز ہمیں پہلی صدی کی رسولی چیزیں اور دوسری صدی کے دلائل سے ثابت کرنے والے مسیحیوں کے درمیان رابطہ کو مہیا کر تے ہیں ۔ ارینیس،پولی کریپ کے ساتھ اُس کی قریبی رفاقت کی وجہ سے اِن کے بڑے اختیار کو رکھتا تھا ، جو یوحنا کا شاگر د تھا ۔ تاہم رسولی تعلیم کی واضح لائن برقرار رہتی ہے ۔ ایتھناگروس نے تقریبا ً اُسی وقت لکھا جب ارینیس نے لکھا اور تثلیث کی تعلیم پر بہت شریں کلام اور واضح وضاحت دیتا ہے ۔ ٹرٹولین کی تحریریں کچھ سال بعد آئیں اور بنیادی طور پر ارینیس کی تحریروں کا اثر رکھتی ہیں ۔

ارینیس 130۔200عیسویٰ:
یہاں مسیحی ایمان کے بہت سے ابتدائی خلاصے ہیں جو بعد کے عقائد کی اصل تاریخ سے پہلے کی تاریخ رکھتے ہیں ، جیسے کہ ارینیس سے قلمبند کیا گیا ” ایمان کا ضابطہ“: ”۔۔۔ یہ ایمان : ایک خدا میں ، قادرِ مطلق باپ ، جس نے آسمان و زمین اور سمندر اور سب چیزیں بنائیں جو اُن میں ہیں ، اور ایک یسوع مسیح میں ، خدا کا بیٹا ، جو ہماری نجات کے لیے انسان بنا ، اور روح القدس میں ،جو نجات کے منصوبے کے لیے نبیوں کے وسیلہ سے جانا گیا ، اور آ رہا ہے ، اور کنواری کی پیدائش سے ، اور جذبہ ، اور مُردوں میں سے جی اُٹھنا ، اور محبوب یسوع مسیح کا بدنی طور پر آسمان پر اُٹھایا جانا، ہمارا خداوند ، اور باپ کے جلال میں آسمان سے اُس کے مستقبل کا ظاہر ہونے سے سب چیزوںکا خلاصہ کرنا اور ساری انسانی نسل کے لیے نئے سرے سے جی اُٹھنا ۔۔۔“

ہیپولیوٹس 200عیسویٰ:
ہمار ے پاس ہیپولیوٹس کی اصطباغی خدمت کا شمار ہے:
”جب ایک شخص بپتسمہ یافتہ ہونے کے لیے پانی میں نیچے جاتا ہے ، وہی ہے جو اُسے بپتسمہ دیتا ہے ، اُس پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے ، کہے گا : ” کیا آپ خدا ، قادرِ مطلق باپ پر ایمان رکھتے ہیں ؟ اور بپتسمہ یافتہ شخص کہے گا : ’ میں ایمان رکھتا ہوں ۔‘ اور اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے ، وہ اُسے ایک مرتبہ بپتسمہ دے گا ۔ اور تب وہ کہے گا : ’ یا آپ یسوع مسیح ، خدا کے بیٹے ، پر ایمان رکھتے ہیں ، جو کنواری مریم سے پیدا ہوا ، جو پینطوس پیلاطوس سے مصلوب ہوا ، جو مرا اور دفن کیا گیا ، اور تیسرے سن جی اُٹھا ، مُردوں میں سے زندہ ہوا ، او ر آسمان پر چڑھ گیا ، اور باپ کے دہنے ہاتھ جا بیٹھا ، اور زندوں اور مُردوں کی عدالت کے لیے آئے گا ۔؟‘اور جب وہ کہتا ہے ، ’ میں ایمان رکھتا ہوں ،‘ وہ دوبارہ بپتسمہ یافتہ ہوتا ہے ۔ اور دوبارہ وہ کہے گا: ’ کیا آپ روح القدس پر ایمان رکھتے ہیں ، پاک کلیسیا پر ، اور جسم کے جی اُٹھنے پر؟‘ بپتسمہ حاصل کرنے والا شخص کہے گا : ’ میں ایمان رکھتا ہوں ‘، اور پھر تیسری مرتبہ اُسے بپتسمہ دیا جاتا ہے ۔“
دونوں ’ارینیس کی طرف سے قلمبند کیا گیا اور ہیپولیوٹس کی طرف سے قلمبند کی گئی اصطباغی خدمت ” ضابطہ“ کے طور پر رسولوں کے عقیدے کی مشابہت کے بہت قریب ہیں ۔

ایتھنگوراس کا عذر۔ 177عیسویٰ:
اگر ہم اِس جیسی پیشگی سوچ بچار کے ساتھ اپنے لیے مطمئن تھے ، ہماری تعلیمات کو انسان کے طور پر کسی سے غور کیا جانا تھا ۔ لیکن ، نبیوں کی آوازوں سے اپنے دلائل کی تصدیق کیے جانے سے ، جیسے میں سوچتا ہوں کہ آپ بھی ، علم کے لیے آپ کا جوش ، اور سیکھنے میں آپ کی بڑی قابلیت ، تحریروں کے لیے نظر انداز نہیں ہو سکتی خواہ موسیٰ کی ہوں یاں یسعیاہ اور یرمیاہ ، اور دوسرے نبیوں کی، جنہوں نے ، اپنے ذہنوں کے قدرتی کاموں سے الہی روح کی تحریک سے بُلند ہو کر اِسے از حد خوشی سے اُٹھآیا ، اُن سب چیزوں سے جن سے وہ متاثر ہوئے تھے ، روح نے اُنہیں بانسری میں بانسری بجانے والے کی سانسوں کی مانند استعمال کیا ، کیا ، پھر ، کیا وہ لوک کہیں گے ؟ ” خداوند ہمار ا خدا ہے ، کسی دوسرے کا اُس کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا ۔“ اور دوبارہ : ” میں خدا ہوں ، الفا اور اومیگا ، اور میری علاوہ کوئی خدا نہیں ۔ “ اِسی طرح : ” مُجھ سے پہلے یہاں کوئی دوسرا خدا نہیں تھا ، اور میرے بعد یہاں کوئی نہ ہو گا ، میں خدا ہوں ، اور میرے سوا کوئی اور نہیں ۔“ اور اُس کی بزرگی کے لیے : ” آسمان میرا تخت، اور زمین میرے پاﺅں کی چوکی ہے : جو گھر تُم میرے لیے بناﺅ گے ، یا میرے آرام کی جگہ کیا ہے ؟“ لیکن میں اِسے تمہارے لیے چھوڑوں گا ، جب تُم اپنے لیے کتابوں سے مِلتے ہو ، اُن میں محیط پیشن گوئیوں کی محتاط طور پر پرکھ کرنے کے لیے، جسے آپ ہمارے ساتھ کی گئی بد سلوکی سے بچائیں گے ۔

یہ کہ ہم بے دین نہیں ہیں ، اِسی لیے ، یہ دیکھنا کہ ہم ایک خدا ، نا آفریدہ ، ابدی ، مخفی ، ناقابلِ گُزر ، ناقابلِ فہم ، لامتناہی کو قبول کر تے ہیں ، جو صرف سمجھ اور ادراک سے گرفت میں ہے ، جو روشنی ، اور خوبصورتی ، اور روح ، اور ناقابلِ بیاں قدرت دے احاطہ کیا گیا ہے ، جس سے اِس کا ئنا ت کو اُس کے علامتوں ، اور ترتیب سے خلق کیا گیا ، میں کافی طور پر تشریح بیان کر چُکا ہوں ۔ ( میں کہتا ہوں ” اُس کی علامتیں “) ہم خدا کے بیٹے کو بھی قبول کر تے ہیں۔ نہ تو کوئی اِسے مذاق سمجھتا ہے کہ خدا کو ایک بیٹا رکھنا چاہیے تھا ۔ اگرچہ شاعر ، اپنی من گھڑت کہانیوں میں ، انسان سے بہتر نہ ہونے کے طور پر دیوتاﺅں کی نمایندگی کر تے ہیں ، سوچنے کا طریقہ کار ایسا نہیں جیسا اُن کا ہے ،خواہ خدا باپ کے متعلق ہے یا بیٹے کے متعلق ۔ لیکن خدا کا بیٹاباپ کی علامت ہے ، خیال اور کام میں ، اُس کے نمونے کے پر اور اُس کے وسیلہ سب چیزیں بنیں ، باپ اور بیٹا ایک ہوئے ۔ اور بیٹا باپ میں ہے اور باپ بیٹے میں ہے ، واحدانیت اور رو ح کی قدرت میں ، باپ کی سمجھ اور ادراک بیٹے میں ہے ۔ لیکن اگر ، آپ کی فائق ذہانت میں ، یہ آپ کی دریافت کے لیے رونما ہوتا ہے جو اِس کی بیٹے سے مُراد ہے ، میں مختصر طور پر بیان کروں گا کہ وہ باپ کی پہلی پیداوار ہے ، وجود میں آنے کےطور پر نہیں ، ( ابتدا سے ، خدا ، جو ابدی ذہن رکھنے والا ہے ، اپنے آپ میں علامات رکھتا تھا ، وہ علامات کے ساتھ ہمیشگی کی جبلت سے ہے ، جو صفات کے بغیر فطرت کی مانند تھا ، اور بے حرکت زمین ، جو روشن کرنے والے کے ساتھ فاش کرنے والے ذرات کے ساتھ آمیزش بنا ۔ نبوتی روح بھی ہمارے بیانات کے ساتھ متفق ہوتا ہے ۔ ” خداوند “ مُجھے اُس کے کاموں کے لیے اُس کی راہوں کی ابتدا بنا ۔“ روح القدس بذات ِ خود بھی ، جو نبیوں میں کام کرتا ہے ، ہم خدا کی روشنی کے پھیلاﺅ ہونے کو دعویٰ سے کہتے ہیں ، اُس کی پیروی کر تے ہوئے ، اور سورج کے شہتیر کی مانند دوبارہ واپس آتے ہوئے ۔ کون ، پھر ، آدمیوں کو سُننے سے حیران نہیں ہو گا جو خدا باپ کی بات کر تے ہیں ، اور خدا بیٹے کی ، اور روح القدس کی ، اور جو دونوں اتحاد میں اُن کی قدرت اور ترتیب وار اُن کے امتیاز کو بیان کرتا ہے ، اُنہیں بے دین کہا گیا ہے ؟ نا ہی ہماری تعلیم جو اِن نقات کی تصدیق کے لیے الہی فطرت سے تعلق رکھتا ہے ، لیکن ہم فرشتوں کی بھیڑ اور خادمین کی شناخت بھی کر تے ہیں ، جنہیں خدا تخلیق کار اور دُنیا کو بنانے والے نے اپنی علامات کے لیے مختلف اور بہت سی جگہوں پر تعینات کیا ہے ، اپنے آپ کو اُن عناصر پر قبضہ کرنے کے لیے ، اور آسمانون پر، اور دُنیا ، اور اُن چیزوں پر جو اِس میں ہیں ، اور اُن سب اچھے ضابطوں کے لیے ۔

ٹرٹولین 155۔225عیسویٰ:
ٹرٹولین نے تثلیث کے تصور کو ایجا د نہیں کیا ، اُس نے صرف یوحنا کے رسولی بیان کو تفصیل سے بیان کیا ہے ” یہ تینوں ایک ہیں “ اور ایتھینگورس اور ارینیس کی پہلے سے تیار شُدہ الہیات سے ادھار لیا ہے۔ درحقیقت ، بعد میں ، اِس کا براہِ راست اثر ٹرٹولین کی تحریروں پر پڑا ۔ ارینیس ، پولی کریپ کا شاگرد تھا ، جو یوحنا کا شاگرد تھا ، اُسے ٹرٹولین سے خالص رسولی تعلیم کی کامیابی کے اہم تعلق کے لیے قیاس کیا گیا تھا ۔
ٹرٹولین اگینسٹ پیراکس ایک کا م تھا جس نے پیراکس کے خلاف راہنمائی کی جس نے سبیلینسم کی بدعت کو تھامے رکھا ۔ پیراکس ٹرٹولین سے قیاس کیا گیا دکھائی دیتا ہے اور بعد ازاں اُس کے نظریہ سے دستبردار ہوتا دکھائی دیا ۔ یہ کام آج قابلِ تردید مظاہر پرستی اور سبیلینسم کے فیصلہ کُن کام کے طور پر کھڑا ہے ۔
پھر ، وقت کی رفتارمیں ، برحق باپ پیدا ہوا ، اور باپ نے اذیت کو برداشت کیا ، خود خدا ، قادرِ متعلق نے ، جسے اُن کی تبلیغ میں اُنہوں نے یسوع مسیح کے طور پر اعلان کیا ۔ بہر حال ، ہم ، جیسے ہم بلا شُبہ ہمیشہ کر چُکے ہیں اور خاص طور پر پر ابھی تک روح القدس سے ہدایت پاتے ہیں ، جو انسانوں کی بلا شُبہ سب سچائی میں راہنمائی کرتا ہے )، یقین رکھتے ہیں کہ یہاں صرف ایک خدا ہے ، لیکن مندرجہ ذیل قسمت کے نیچے ، یا ، جیسے اِسے کہا گیا ہے ، کہ یہ صرف ایک خدا ہے جو ایک بیٹا ، اُس کا کلام بھی رکھتا ہے ، جو اپنے لیے آگے بڑھتا ہے ، جس کے وسیلہ سے سب چیزیں بنیں اور جس کے بغیر کچھ بھی نہ بنا ۔ اُس کے لیے ہم ایمان رکھتے ہیں کہ اُسے باپ کی طرف سے کنواری میں بھیجا گیا ، اوروہ اُس سے پیدا ہوا ۔ دونوں انسان اور خدا ہوتے ہوئے ، ابنِ بشر اور ابنِ خدا ، اور اسے یسوع مسیح کے نام سے پُکارا گیا ، ہم کلام ِ مقدس کے مطابق اُس کے اذیت برداشت کرنے ، مرنے اور دفنائے جانے پر یقین رکھتے ہیں ۔

اقتباسات کے مطابق اُس کا اذیت برداشت کرنا ، مرنا ، اور دفنایا جانا ، اور با پ کے وسیلے اُس کے دوبارہ زندہ جی اُٹھنے اور واپس آسما ن پر اُٹھائے جانے کے بعد ، با پ کے دہنے ہاتھ بیٹھنا ، پھر وہ زندوں اور مُردوں کا انصاف کرنے کےلے آئے گا ، جسے باپ کی جانب سے آسمان سے بھیجا گیا، اُس کے وعدہ کے مطابق ، روح ، روح القدس ، اُن کے ایمان کو پاک کرنے والا جو باپ پر ایمان رکھتے ہیں ، اور بیٹے ، او روح القدس پر ۔ یہ کہ ایمان کا یہ اصول انجیل کی ابتدا سے ہمارے لیے آ چُکا ہے ، یہاں تک کہ قدیم بدعتوں سے پہلے ، پیراکسس سے بہت پہلے ، گُزرے ہوئے کل کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا ، دونوں تاریخ کی دیر سے نمایاں ہو گا جو ساری بدعتوں کے نشانات ہیں ، اور ہمارے پیراکسس کے سراسر افسانوی کردا ر سے بھی ۔ اِس اصول میں بھی ہم لازما ً بعد ازاں تمام بدعتوں کے خلاف قیاس کرنے کی مساوی قوت کو پاتے ہیں ۔ یہ کچھ بھی پہلا سچ ہے ، کہیں بھی یہ جعلی ہے جو تاریخ میں دیرینہ ہے ۔ لیکن اِس دستو ر العمل کو رکھنا اصول کو محفوظ رکھنا ہے ، نظر ثانی کے لیے اب بھی کچھ موقع دیاگیا ہے ( بدعتوں کے بیانات )، قسم قسم کے اشخاص کی حفاظت اور ہدایت کے نظریہ کے ساتھ ، یہ صرف اِس طرح تھا کہ یہ اِس طرح دکھائی نہیں دیتا کہ سچائی کی ہر تحریف امتحان کے بغیر ضبطی کا حکم دیا گیا ہے ، اور خاص طور پر قبل از وقت رائے ظاہر کرنا ہے ، خاص طور پر اِس بدعت کے معاملہ میں ، جو بذاتِ خود خالص سچائی پر قابض ہونے کا قیاس کرتا ہے ، سوچ و بچار میں یہ کسی ایک کے ایسا کہنے کی بجائے کہ باپ ، بیٹا ، اور روح القدس بالکل وہی شخص ہیں کسی طرح ایک خدا پر ایمان نہیں رُک سکتا ۔ جیسا کہ اگر اِس طرح بھی ایک بالکل نہیں تھا ، اِس میں سب ایک ہیں ، جو ہر کے اتحاد کے وسیلے ، جبکہ قسمت کا بھید ابھی تک محفوظ تھا ، جو اتحاد کو تثلیث میں تقسیم کرتا ہے ، اُنہیں تین اشخاص ، باپ ، بیٹے اور روح القدس کے ضابطہ میں رکھتے ہوئے : تین ، بہر کیف ، کیفیت میں نہیں ، بلکہ درجہ میں ، جوہر میں نہیں بلکہ شکل میں ، قوت میں نہیں ، بلکہ صورت میں ، یہاں تک کہ ایک جوہر ، اور ایک کی کیفیت ،اور ایک کی قوت ، چونکہ جیسے وہ ایک خدا ہے ، جس سے یہ درجات اور شکال اور پہلو اور محاسب ، باپ کے ، اور بیٹے کے ، اور روح القدس کے نام میں ہیں ۔ ( اگینسٹ پیراکسس ٹو)
ایتھنیس،الیگزینڈریا کا بشپ ۔ چوتھی صدی:
ایتھینین عقیدہ اِس نظریہ کا خلاصہ پیش کرتا ہے جو اینتھیس سے منعقد ہوا جس نے چوتھی صدی میں آرئن بدعت کے خلا ف لڑائی کی تھی ۔ آریس الیگزینڈریا میں دوسرے درجہ رکھنے والا پادری تھا جس نے ادراک کیے ہوئے سبیلینسم کے بشپ ، الیگزینڈر ، کے خلاف منادی کی۔ مظاہر پرستی کی غلطی سے بچنے کے لیے ، آریس دوسری حد تک گیا اور منادی کی کہ بیٹا ابتدا کو رکھتا تھا ، اور خدا باپ کا اکلوتا تھا جس کی ابتدا نہیں تھی ۔ آریس نے بنیادی طور پر سوچا کہ یسوع مسیح خدا باپ سے کم تر تھا یا اُس کا ماتحت تھا ۔ نیسیا کی 325کی کونسل کو قضیہ کو حل کرنے کے لیے بُلایا گیا تھا ۔ نایسن عقیدے نے خدا میں تین اشخاص کو بیان کیا ، لیکن کویل آرینیسم کو تثلیث کی جامع تعریف نہ دی ۔
ایتھینس ، الیگزینڈریا کا ایک اور بشپ ، نایسن کی حالت کو بڑا دفاع کرنے والے کے طور پر اُٹھا ، لیکن اُس کی فتح بڑی جدو جہد کے بغیر نہ آئی ۔ وہ تثلیث پر نیسیا کی کونسل کی حالت کا دفاع کرنے کے لیے رومی حکومت سے تین مرتبہ جلا وطن کیا گیا ۔ آرینسن 300 میں اپنی مشہوری میں بڑھا ، جب تک کہ یہ آخر کا ر شکست خوردہ نہ ہوا ۔ نظریہ کو آخر کار چوتھی صدی کی کلیسیا سے ایک بدعت قیاس کیا گیا تھا اور پھر اِس اثر میں ختم کیا گیا ۔ جُملہ ” دُنیا کے خلاف ایتھینیس“ کو سکے پر ایک ایسے شخص کے طور پر گاڑھا گیا جو سچائی کے لیے کھڑا ہو گا ، کوئی مسئلہ نہیں کہ کتنا قیمتی تھا ۔ ایتھینن کے عقیدے کی عبارت شاید یا شاید ایتھینیس کے الفاظ نہ بنے ، جبکہ اِسے ایتھنیس کی وفات کے بعد پانچویں صدی کے ابتدائی سالوں میں قانونی طور پر ترتیب دیا گیا ۔

ایتھینیسن عقیدہ:
جو کوئی بھی نجات کی ریاست میں ہونے کا خواہشمند ہے ، سب چیزوں سے پہلے یہ ضروری ہے کہ وہ کیتھولک ایمان کو تھامے ہوئے ہے، جو ہر ایک کے سوائے اِس شک کے بغیر پورے اور اچھوتے کو رکھے گا کہ وہ ابدی طور پر ہلاک ہو گا ۔
اب کیتھولک ایمان یہ ہے کہ ہم تثلیث میں اور اتحاد کی تثلیث کی عبادت کر تے ہیں ، نہ ہی اشخاص کو غارت کرنے نہ ہی جوہر کو تقسیم کر تے ہوئے ۔ کیونکہ خدا کا یک شخص ہے ، دوسرا بیٹے کا ، ایک اور روح القدس کا ۔ لیکن خدا باپ ، بیٹا ، اور روح القدس کا ، ایک ہے ، مساوی جلال ، ہم قدم شان و شوکت ۔
جیسے کہ باپ ہے ، جیسے کہ بیٹا ، او ر جیسے کہ روح القدس ہے ، باپ ہمیشہ سے ہے ، بیٹا ہمیشہ سے ہے ، او ر روح القدس ہمیشہ سے ہے ، باپ غیر فانی ، بیٹا غیر فانی ، اور روح القدس غیر فانی ، باپ ابدی ، بیٹا ابدی ، اور روح القدس ابدی ۔ اور اب تین ابدی نہیں بلکہ ایک ابدی ہے ، اِسی طرح تین غیر فانی نہیں ، نہ ہی تین نا آفریدہ ، بلکہ ایک نا آفریدہ ، اور ایک غیر فانی ۔ اِس طرح، باپ قادرِ مطلق ، بیٹا قادرِ مطلق ،اور روح القدس قادرِ مطلق ہے ، اور اب تینوں قادرِ مطلق نہیں ہیں ، بلکہ ایک قادرِ مطلق ہے ۔
اِس طرح خدا باپ ہے ، خدا بیٹا ، اور خدا روح القدس ہے ، اور اب تین خدا نہیں بلکہ ایک خدا ہے ۔ اِس طرح باپ خدا ہے ، بیٹا خدا ، اور روح القدس باپ ہے ، اور اب یہاں تین خداوند نہیں ہیں بلکہ ایک خداوند ہے ۔ اِس طرح جیسا کہ ہم مسیحی ایمان سے زبردستی کرائے گئے ہیں دونوں خود خدا او ر خداوند کے ہر شخص کے علم کےلیے ، اِس طرح ہم کیتھولک فرقہ سے ایسا کہنے کے لیے معانت کئے گئے ہیں ، یہاں تین خدا یا تین خداوند ہیں ۔
باپ کسی چیز سے نہیں بنا ، نہ ہی خلق کیا گیا نہ پیدا ہوا ۔ بیٹا اکیلے باپ کا ہے ، نہ بنا نہ خلق ہوا بلکہ پیدا ہوا ۔ روح القدس باپ، اور بیٹا کا ہے نہ بنا نہ خلق کیا گیا نہ پیدا ہوا بلکہ طریقِ عمل ہے ۔ اور اِس تثلیث میں یہاں پہلے اور بعد میں کچھ نہیں ، کچھ بھی بڑا یا چھوٹا نہیں ، بلکہ سب تینوں اشخاص ایک دوسرے کے ہم قدم ہیں ۔
اِس طرح یہ تمام چیزوں میں ، جیسے پہلے کہا گیا ہے ، تثلیث میں واحدانیت اور واحدانیت میں تثلیث کی عبادت کی گئی ہے ۔ وہ اِسی لیے جو نجات کی ریاست میں ہونے کا خواہاں ہے ، اُسے تاہم تثلیث کے لیے سوچنے دیجیے ۔
لیکن یہ ابدی نجات کے لیے ضروری ہے کہ وہ بھی ہمارے خداوند یسو ع مسیح کے مجسم ہونے پر ایمانداری سے ایمان رکھتا ہے ۔ درست ایمان اِسی لیے یہ ہے کہ ہم یقین رکھتے اور اعتراف کر تے ہیں کہ ہمارا خداوند یسوع مسیح ، خدا کا بیٹا ، خدا اور انسان ہے ۔
وہ دُنیا سے پہلے باپ کے جوہر کا خدا ہے ، اور وہ دُنیا میں اُس کی ماں کے پیدا ہونے کے جوہر کا انسا ن ہے ، کامل خدا ، توجیہی روح اور انسانی جسم کا وجود رکھنے والا کامل انسان ، باپ کے مساوی اُس کی خدائی کو چھوتے ہوئے ، باپ سے ادنیٰ اُس کے انسان ہونے کو چھونے کے طور پر ۔
جو اگرچہ خدا اور انسان بنا اب وہ دو نہیں بلکہ ایک مسیح ہے ، ایک جو جسم میں خدا کے تغیر سے نہیں ، بلکہ خدا میں جواں مردی ہو حاصل کرنے سے ہے ، ایک مکمل طور پر جوہر کی الُجھن سے نیں ہے بلکہ ایک شخص کی واحدانیت سے ہے ۔ کیونکہ توجیہی روح اور جسم ایک انسان ہے ، اِس طرح خدا اور انسان ایک مسیح ہے۔
جس نے ہماری نجات کے لیے اذیت برداشت کی ، جہنم میں اُتارا گیا ، مُردوں میں سے دوبارہ جی اُٹھا ، آسمان پر اُٹھایا گیا ، باپ کے دہنے ہاتھ جا بیٹھا م جہاں سے وہ زندوں اور مُردوں کی عدالت کرنے کے لیے آئے گا ۔ جس پر سارے انسان دوبارہ اپنے اجسام میں جی اُٹھیں گے اور اُنہیں اپنے کاموں کا حساب دینا ہو گا ۔ اور وہ جہنوں نے اچھائی کی ہے وہ ابدی زندگی میں جائیں گے اور وہ جہوں نے بلا شُبہ بدی کی ہے وہ ابدی آگ میں جائیں گے ۔
یہ کیتھولک کا ایمان ہے ، جو انسان کے علاوہ ایمانداری سے یقین کر چُکا ہو گا اور ثابت قدمی سے نجات کی مملکت میں نہیں ہو سکتا ۔

مخالفِ تثلیث بدعتیں:
آرینینسم کے لیے اضافہ کر نے میں ، جہنوں نے انکا ر کیا یا مسیح کی خدائی کو کم کیا ، ایسی بہت سی مخالفِ تثلیث بدعتیں تھیں جہنوں نے شاہ پرستی میں کلیسیا کی پہلی چند صدیوں میں جڑ پکڑی ۔ شاہ پرستی انکار کر تی ہوئی تعلیم ہے کہ یہاں ایک خدا میں تین شخص ہیں ۔ مندرجہ ذیل میں تین غالب بدعتوں کا مختصر خاکہ ہے
قوت ِ عمل رکھنے والی شاہ پرستی ، مظاہر پرست شاہ پرستی ، اورسیبیلینسم۔

قوت ِ عمل رکھنے والی شاہ پرستی:
دوسری صد ی کے آخر ی برسوں میں ، ایک بدعت نمایاں ہوئی جس نے سکھایا کہ فقط انسان تھا جس پر خدا کا روح اُتارا گیا تھا ۔ اِس تعلیم کو بہت زیادہ متبنیٰ بنانے کے طور پر جانا گیا ، ایک مسیحی پرستی کی بدعت کے طور پر ۔ متبنیٰ ہونا پورے کلیسیائی دور میں دوبارہ آشکارہ کیا گیا جب کچھ نے سکھایا کہ انسان یسوع کو خدا کے عمل کے وسیلے بیٹے پن میں گود لیا گیا ۔ عا م طور پر، متبنیٰ ہونا ایمان ہے کہ یسوع انسان( شخص) تھا جو اپنی زندگی کے کسے نقطے پر الوہیت کے لیے سرفراز کیا گیا تھا ۔
دوسری صدی کے متبنیٰ اساتذہ الہی وحدانیت یا بادشاہت کی محافظت کے لیے متاسف تھے ۔ قوتِ عمل رکھنے والی شاہ پرستی کا موجد باز نطینی چمڑے کا تاجر تھا جس کا نام تھیوڈوٹس تھا ،جو190میں روم میں اِس تعلیم کو لایا ۔ اگرچہ وہ دُنیا کی تخلیق، الہی قادرِ مطلق ، اور کنواری کی پیدائش کے مذہبی بیانات کے ساتھ پوری طرح متفق تھا ، تھیوڈوٹس یقین رکھتا تھا کہ یسوع نے ایک عام انسان کی طرح زندگی بسر کی ، فرق یہ تھا کہ وہ نیکو کار تھا ۔ اُس کے بپتسمہ پر ، روح یا مسیح اُس پر اُترا اور اُس لمحے اُس نے کبھی مکمل الہی بننے کے بغیر معجزات کئے ۔
اِس سوچ کے دوسرے محرکین تھیوڈوٹس ، آرٹیماس اور ساموسٹا کا پولس تھے ۔ یہ اساتذہ سختی سے اِس سچائی کی محافظت کے لیے توحید پرستی سے تعلق رکھتے تھے کہ خدا یک ہے ، لیکن اِس بدعت کو سکھانا کہ یسوع مسیح محض ایک انسان تھا ۔ قوتِ عمل رکھنے والے شاہوں نے یسوع کے خدا ہونے کو قیاس کرنے سے انکار کیا اور اُس کی خدا وند کے طور پر عبادت نہ کی ۔

مظاہر پرست شاہ پرستی:
مظاہر پرست شاہ پرستی یا صورت پرستی کم از کم قیاس میں تثلیث کی ایک شکل ہے۔ اب طنزیہ طور پر ، یہ تثلیث کا عہدہ رکھنے والے اور مظاہر پرستوں کے درمیان ہے کہ تثلیث پر جدید نزاع واپس لے لیا گیا ہے ۔ بنیادی طور پر ، مظاہر پرستی بالکل اُسی طرح ہے جیسے واحدانیت کی جدید تعلیم کو یونائیٹڈ پینٹیکوسٹل چرچ سے سکھایا گیا ، کسی ، ” عمیق زندگی “ کے مذاہب ، اور مشہور شفا دینےوالے مبشرانِ انجیل، ولیم براینہم ۔ کامل یا ” سادہ لوح“ مظاہر پرستی کو بعض اوقات جدید بنیاد پرستوں میں پایا گیا جو مسیح کی خدائی پر اصرار کر تے ہیں ، لیکن نا راضا مندانہ طور پر تثلیث کی واضح تعلیم کو تجویز کرنے کے لیے الہیاتی جدوجہد کر تے ہیں ۔مظاہر پرستی ایک اصطلاح ہے جسے ابتدائی کلیسیا کی تاریخ میں اِس ایمان کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا گیا کہ باپ ، بیٹا اور روح القدس خدا کی فطرت میں ابدی امتیاز نہیں رکھتے ہیں بلکہ سادہ طرح خدا کی سرگرمی کی( تجلی یا طریقہ کا ر) طرز کو بناتے ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں ، خدا ایک شخص ہے ، بہت القاب اُسے بیان کرنے کے لیے استعمال ہوئے ہیں ۔جیسا کہ ، باپ، بیٹا ، اور روح القدس ، اُس کے عمل یا مختلف تعلقات کی مختلف اشکال کو جنہیں وہ انسان کےلیے رکھتا تھا لاگو کرنے سے موسوم کئے گئے ہیں ۔ مظاہر پرستی کی اصطلاح پیڑیپیشن ازم اور سیبلیم ازم بھی ہیں ۔

مظاہر پرستی دوسری صدی میں واضح تعلیم کے طور پر ظاہر ہوئی ۔ اِس کے پیرو کار نمایاں طور پر دور تک پھیلے ہوئے تھے ۔ وہ دونوں خدا کی واحدانیت اور مسیح کی مکمل خدائی کی تعلیم کو محفوظ رکھنے سے متعلق متاسف تھے ۔ بہت ابتدائی مظاہر پرست سمرانہ کا نیوٹس ، ایپگونس ، کلیو منس اور پریاکسس تھے ۔ اُن کی تعلیم کااِس خیال کے وسیلہ خلاصہ کیا جاتا ہے کہ یہاں صرف ایک خدا ہے ، باپ، جو کنواری مریم کے بطن میں داخل ہوا ، وہ ایک آدمی کے طور پر پیدا ہوا اور دُکھ برداشت کیا اور صلیب پر مر گیا ۔ اِس تعلیم کو پیٹری پیشن ازم کے طور پر یا اِس ایمان کے ساتھ کہ بات نے اذیت برداشت کی کے طور پر بھی جانا گیا تھا ۔
مظاہر پرستی اور تثلیث کا عہد ہ رکھنے کے درمیان امتیاز بعض اوقات غیر واضح ہے ۔ لیکن سادہ طور پر رکھا جاتا ہے : مظاہر پرست ایمان رکھتے ہیں کہ خدا ایک ہے اور اپنے آپ کو تین مختلف طریقوں یا پہلووں یا ایک میں تین ہونے کو عیاں کرتا ہے ۔ تثلیث کا عقیدہ رکھنے والے ایمان رکھتے ہیں کہ خدا تین مختلف اشخاص میں ایک خدا ہے ” یہ تینوں ایک ہیں “ ( 1یوحنا5:7) ۔ بہت سے مظاہر پرست خدا کے باپ ، بیٹے ، اور روح القدس کے تین ارکان کے درمیان امتیاز کو قبول کر تے ہیں ، لیکن کہتے ہیں کہ وہ سادہ طرح ایک خدا کے پہلو یاں طریقہ کار ہیں ۔ یہاں مظاہر پرستی پر بہت سی کمی بیشی ہیں ۔ کچھ دوسروں سے زیادہ بدعتی ہو تے ہیں ، لیکن یہاں کسی بھی مظاہر پرست شکل کے ساتھ روحانی مسائل ہیں ۔

سیبلین ازم ۔ ( یہ عقیدہ کے باپ بیٹا اور روح القد س خدا کے ایک ہی پر تو ہیں)
سیبلین ازم مظاہر پرستی کی ایک دوسری شکل ہے ۔ ا س بدعت کی ابتدا سیبلیس کے ساتھ ہوئی ، ابتدائی تیسری صدی کا بدعتی ۔ کچھ تاریخ دان سوچتے ہیں کہ سیبلیس کو پیراکسس سے سکھایا گیا تھا ، ٹرٹولین کے خلاف پیراکسس کے موضوع پر ۔ اُس وقت سے سیبلیس اچھی جان پہچان والا مظاہر پرست تھا ، تاریخ دان اکثر مظاہر پرست تعلیم کو سیبلین ازم ( یہ عقیدہ کے باپ بیٹا اور روح القد س خدا کے ایک ہی پر تو ہیں )کہتے ہیں ۔
ٹرٹولین اگینسٹ پیراکسس میں ، اُس نے اشارہ کیا کہ اِس وقت کے دوران سادگی سے یا بے عملی سے مظاہر پرست تعلیم سے چِپکے ہوئے تھے : “سادہ ، بلا شبہ ( میں اُنہیں بے وقوف اور غیر پڑھا لکھا ہوا نہیں کہوں گا ) ، جو ہمیشہ ایمانداروں کی اکثریت کو تشکیل دیتے ہیں ، وہ قسمت پر ( ایک میں تین) چونکا دینےوالے ہیں ، کہ اُن کے ایمان کا اصول اُنہیں صرف ایک سچے خدا کے لیے دُنیاوی دیوتائوں کی افراط سے نکالتا ہے ، اِسے نہ سمجھتے ہوئے کہ ، اگرچہ وہ صرف ایک خدا ہے ، اُس پر لازما اب بھی اپنی معیشت کے طور پر ایمان رکھا گیا ۔ عددی ضابطہ اور تثلیث کی درجہ بندی کو وہ واحدانیت کی تقسیم ہونے کےطور پر قیاس کرتے ہیں ، جہاں واحدانیت جو اپنے آپ سے تثلیث کو باہر نکالتی ہے وہ تباہ ہونے سے کوسوں دور ہے ، یہ کہ درحقیقت اِس کی اِس کے وسیلہ مدد ہوئی۔”

سیبلیس نے مظاہر پرستی کی ابتدائی اشکال کے ساتھ مسائل کو دیکھا ، زیادہ یاد گاری کے طور پر اِس نظریہ کے ساتھ کہ باپ نے اذیت برداشت کی ۔ اِس مسئلہ کے حل کے لیے ، سیبلیس نے حکیمانہ طور پر وضاحت کرنے کی کوشش کی ۔ اُس نے خدا کی الہیات کے عمل کو نامزد کیا جس میں خدانے یکے بعد دیگرے اپنے آپ کو تین عملوں میں بیان کیا ۔ باپ خدا کی شکل یا جوہر تھا ، لیکن اُس نے اپنے آپ کو تاریخ کے مختلف اوقات میں اسلوبِ بیان کے فرق طرز کو انسان ہونے کے طور پر آشکارہ کیا ، پہلے بیٹے ، اور پھر روح کے طور پر ۔سیبلیس نے کہا خدا نے اپنے آپ کو تخلیق میں باپ ، بیٹے میں مجسم ہونے ، اور نئی زندگی اور پا کیزگی میں روح القدس کے طور پر آشکارہ کیا ۔ اُس کا ایمان تھاکہ یہ تین اطراز یا طریقہ کار اُس وقت یکے بعد دیگرے تھے ۔
سیبلین ازم کو کُشادہ طور پر قبول کیا گیا تھا ، لیکن آتش مزاجی کے طور پر ہیپولیٹس کی جانب سے مخالفت تھی۔ کچھ عرصہ کے لیے پوپ کیلسٹس کی جانب سے قبول کیے جانے کے بعد ، اُسے آخر کار بدعتی کے طور پر برادری سے باہر کر دیا گیا تھا ۔

مظاہر پرستی کے ساتھ روحانی مسائل:
مظاہر پرستی کا بکثرت دو بارہ ظاہر ہونا شاید تثلیث کی تعلیم سکھانے کی ناکامی ، آرتھو ڈکس تعلیم کا کم تر نظریہ ، یا سادہ طور پر تثلیث کو ماننے والے کے طور پر تثلیثی تعلیم کی غلط سمجھ کا نتیجہ تھی ۔ مظاہر پرستی جدید کیرز میٹک تحریک میں بھی واپس آ چُکی تھی ۔ ایک کریزما میگزین آرٹیکل ، جے ۔ لی گریڈی ( جون 1997) کی جانب سے ، دوسرے پیٹیکاسٹلز میں پوچھتا ہے : ” کیا ہم اُس دور میں داخل ہو رہے ہیں جب واحدانیت اور تثلیث پینٹیکاسٹل کے درمیان تقسیم کرنے کی لکیر بہت دھندلی پڑ جائے گی کہ یہ غیر موزوں ہے ؟ اور کیا اِس بحث کی دونوں جانب سے جلد عذر خواہی پیش کی جائے گی ؟“ جبکہ آرتھوڈکس اور بدعت کے درمیان تثلیث پر لکریں شاید دھندلی دکھائی دیتی ہیں ، مسیحیت کی بدعت یا خدا کی غلط سمجھ بہت سنجید ہ فطرت کی بنیادی بدعت ہے ۔ تثلیث ہمارے بچانے والے ایمان کی بہت خاص چیز ہے۔ اسی لیے ، کلیسیائی فادرز اور دلائل سے ثابت کرنے والوں نے سوچا کہ ہماری نجات کے لیے تثلیث پر ایمان لانا ضروری ہے۔ مظاہر پرستی کا سادہ امتحان اِس کے وراثتی مسائل کو عیاں کر ے گا ۔

مندرجہ ذیل سوالات خدا کی مظاہر پرست تشریح کے ساتھ مسائل کو سمجھنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں ۔ آپ اِسے مظاہر پرست نظریہ قیاس کرنے کے لیے ناممکن طور پر پائےں گے جبکہ نیچے دئیے گئے اقتباسات کی تشریح کرنے کی کوشش کر تے ہوئے ۔

1۔ یسوع نے یہ باتیں کہیں اور اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اُٹھا کر کہا کہ اے باپ ! وہ گھڑی آ پہنچی ہے ۔ اپنے بیٹے کا جلال ظاہر کر تاکہ بیٹا تیرا جلال ظاہر کرے ۔ چنانچہ تُو نے اُسے ہر بشر پر اختیار دیا ہے تاکہ جنہیں تُو نے اُسے بخشا ہے اُن سب کو وہ ہمیشہ کی زندگی دے ۔ اور ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ وہ تُجھ خدایِ واحد اور بر حق کو اور یسوع مسیح کو جسے تُو نے بھیجا ہے جانیں ۔ جو کام تُو نے مُجھے کرنے کو دیا تھا اُس کو تمام کر کے میں نے زمین پر تیرا جلال ظاہر کیا ۔ اور اب اے باپ ! تُو اُس جلال سے جو میں دُنیا کی پیدائش سے پیشتر تیرے ساتھ رکھتا تھا مُجھے اپنے ساتھ جلا لی بنا دے ۔“ ( یوحنا 17:1۔5)۔
یسوع نے اپنے باپ سے دُعا کی ۔ کیا یہ تعلق عارضی تھا یا یہ اَبدی تھا ؟ کونسے مسائل مظاہر پرست اِس اقتباس کی تشرےح کرنے میں مجادلہ کر تے ہیں ؟
2۔ ” ۔۔۔ اور روح القدس جسمانی صورت میں کبوتر کی مانند اُس پر نازل ہوا او ر آسمان سے آواز آئی کہ تُو میرا پیارا بیٹا ہے ۔ تُجھ سے میں خوش ہوں“ ( لوقا3: 22) ۔ اِس حوالہ میں کون بول رہا ہے ؟

3۔ ” لیکن جب وہ مد د گار آئے گا ، جس کو میں تمہارے پاس باپ کی طرف سے بھیجونگا یعنی روح ِ حق جو باپ سے صادر ہوتا ہے تو وہ میری گواہی دے گا “ ( یوحنا 15:26)۔
غور کیجیے کہ یسوع نے ایسا صرف اِس لیے نہیں کہا :” میں تُم پر اپنا روح بھیج رہا ہوں ۔“ اِس حوالے کا ہمیں کچھ کچھ اکٹھا اَبدی جوڑ بارے سکھانے کا مطلب ہے جو باپ او ر بیٹے کے درمیان وجو د رکھتا ہے۔ یہاں باپ اور بیٹے اور روح القدس کے درمیان مداخلت کا کیا مفہوم ہے ؟

4۔ ” اور تیسرے پہر کے قریب یسوع نے بڑی آواز سے چِلا کر کہا ایلی ، ایلی لماشبقتنیٰ ؟ یعنی اے میرے باپ ! اے میرے خدا ! تُو نے مُجھے کیوں چھوڑ دیا ؟(27:46)۔
اِس اقتباس میں یسوع کس سے دُعا کر رہا تھا ؟

5۔ ” خدا محبت ہے “ ( 1یوحنا4:16)

محبت ، خدا کی ابدی صفت ، بنایِ عالم سے پیشتر وجود رکھتی تھی ۔ خدا نے آدم کی تخلیق سے پہلے کس سے محبت رکھی ، اگر یہاں خدا میں واضح اشخاص نہیں تھے ؟

تثلیث کے عقیدہ کی فضلیت:
مندرجہ بالا نئے عہد نامے کے اقتباسات کی مظاہر پرستی میں فٹ بیٹھنے والے بل کھاتے ہوئے اقتباس کی بجائے تثلیثی تعلیم کے ساتھ موافقت کرنا آسان ہے ۔ باپ ،بیٹا اور وح القدس خدا کے مساوی ، ہم قیاس ، ماتحت نا ہونے والے ارکان کے طور پر وجود رکھتے ہیں ۔ وہ بنیادی ، دوسرے اور تیسرے ضابطہ کے طور پر وجود رکھتے ہیں، اب واحدانیت میں ایک ابد ی خدا کے ساتھ وہ مساوی ہیں ۔ یسوع با پ کا ” اکلوتا ( ابدی طو ر پر اکلوتا ) بیٹا ہے ۔ اور روح القدس دونوں باپ اور بیٹے سے ابدی طور پر آگے بڑھتا ہے ۔
مزید براں، تثلیثی عقیدہ مجسم ہونے ، جی اُٹھنے اور یسوع کے اُٹھائے جانے کی مناسب وضاحت کی اجازت دیتا ہے ، صرف بیٹا ، یا لوگوز ، انسان بنا ، اور یہ شخص ، یسوع مسیح ، دونوں مکمل طور پر خدا اور مکمل طور پر انسان تھا ۔ وہ یہاں تک آج ہماری مصیبتیں برداشت کرنے میں مکمل طور پر ہمارے ساتھ پہچانے جانے کے قابل ہے، کیونکہ وہ ، انسان کے جی اُٹھے بدن میں ، باپ کے دہنے ہاتھ بیٹھا ہے اور ہمارے لیے کوشش کر تا ہ ۔ اِسی لیے ہم دُعا کر تے ہیں کہ : ” یسوع مسیح کے نام میں۔“
مظاہر پرستی ، صرف عارضی طور پر مجسم ہونے کی اجازت دیتی ہے ، جس میں یسوع ، جو مکمل طور پر خدا تھا ، و ہ عارضی طور پر خدا دے کم تر بنا ۔ مظاہر پرستی یہاں مسئلے کو جنم دیتی ہے کیونکہ یہ اصرار کر تی ہے کہ باپ نے ہمار ی خاطر اذیت برداشت کی ۔ خدا کا ایک پہلو یا طرز انسان نہیں بن سکتی تھی جبکہ دوسرا آدھا حصہ آسمان میں تھا ۔ مظاہر پرست سکھاتے ہیں کہ باپ یسوع مسیح کے طور پر پیدا ہوا اور یہ کہ وہ مرا اور اپنے آپ کو مُردوں میں سے زندہ کیا ۔ اِس دعویٰ کو کر تے ہوئے ،مظاہر پرستی کو یہ نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مجبور کیا گیا کہ یسوع دُنیاوی ترتیب میں ” آدھا انسان/آدھا خدا “ ، یا ” خدائی انسان“ ہونے کی دو فطرتیں رکھتا تھا ۔ یہ کیلسیڈونین عقیدہ کی بے حُرمتی کرتا ہے ۔
جبکہ تثلیثی عقیدہ باپ اور بیٹے کے درمیان ابدی تعلق کو پکڑے رکھتا ہے ، مظاہر پرست بیٹے کو بنیادی طور پر با ضابطہ اور عارضی طو ر پر دیکھتا ہے ۔ ایسا یسوع کی خدمت میں ہے ، کہ ” خدائی انسان “ کی ذاتی کمزوری ظاہر ہو تی ہے ۔ بہت سے انسانی اعمال اُس کی خدا ئی یا اُس کی انسانیت سے منسلک ہیں ، تاہم اُسے دو مساوی نظاموں پر کام کرنے کے طور پر بیان کرنا ، موقع کی مناسبت سے ایک صورتِ حال سے دوسری میں ڈھالتے ہوئے ، لیکن کبھی ایک مرکب ہونے کے شخص کے طور پر نہیں ۔
یسوع کا تثلیث کا نظریہ دونوں ” مکمل انسان اور مکمل خدا“ کے طور پر ، مزید سمجھ بناتا ہے ، جبکہ ، ” آدھا انسان /آدھا خدا “ یا ” خدائی انسان“ باپ سے جُدا نہیں ہو سکتے تھے ، یا ہماری خاطر گناہ نہیں بن سکتے تھے ۔ جبکہ یسوع خدا کا واضح شخص ہے ۔ وہ بگڑے ہوئے جسم کو اُٹھانے کے قابل تھا اور پھر غیر فانی جلالی بدن میں جی اُٹھا، جو کہ ہمارے چھٹکارے کی اُمید ہے ۔
مظاہر پرست نقطہ نظر سے ، بائبل کے انداز میں چھٹکارہ ممکن نہیں ہونا تھا ۔ مظاہر پرست کفارہ کے تاریخی واقعیات کو نمایاں بناتے ہیں ۔ اگر مسیح باپ سے واضح طور پر ایک شخص نہیں ہے ، پھر ہمارے گناہوں کے لیے اُس کی موت ، اُس کا جی اُٹھنا ، اور باپ سے اُس کی سفارش ممکن نہ ہوتیں ۔ مظاہر پرستی ہمیشہ بائبل کے کفارہ کے نمونے کو مغلوب کر ے گی ۔ مظاہر پرستی ، اِس تعلیم کے ساتھ کہ مجسم ہونا محض عارضی تھا ، لازمی انکار ہے کہ یہا ں جی اُٹھا بدن ہے جس کے ساتھ جُڑنا تھا ، جبکہ یہاں خدا کا صرف ایک طور ہے جو کہ ابدی ہے ، پھر ، خواہ یسوع مسیح کا جلالی بدن کسی نقطے پر سرانجام دیا جا چُکا ہے ، یا ، با نے درحقیقت صلیب پر اذیت برداشت کی ہے ۔ اقتباس اِن منظر وار خلاصہ میں سے یہاں تک کہ ایک کے لیے اجازت نہیں دیتے ہیں ۔ درحقیقت ، دونوں کلام کے اُلٹ ہیں ۔
تثلیث کا عقیدہ سکھاتا ہے کہ یسوع یقینا مکمل انسان اور مکمل خدا ہے کیونکہ وہ ایک دم کامل زندگی بسر کرنے کے قابل تھا ، ہماری اذیتوں کی شناخت کے ساتھ ، وہ ہماری خاطر گناہ بنا ۔ یسوع کا دونوں مکمل انسان اور مکمل خدا ہونے کے طور پر نظریہ ، جیسے چیلسیڈونیم عقیدے میں بیان کہا گیا ہے ، سچی بائبلی تعلیم ہے ۔

کیوں مظاہر پرستی بدعت ہے:
مظاہر پرست شاہ پسندی بدعت ہے ۔ جیسے ٹر ٹولین نے بیان کیا ، تثلیثیت ابتدا سے آرتھو ڈکس مسیحیت کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے ۔ مظاہر پرست اِس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں کہ تثلیثی مسیحیت 2000سالوں کے لئے آرتھو ڈکسی کی غالب شکل کے طور وجود رکھتی تھی ۔ پروٹسٹینٹ ریفارمڈ کی الہیات خوا ہ نظر انداز کی گئی ہے یا اِس پر غور و فکر کیا گیا ،، اور تاریخی مسیحیت کے آرتھو ڈکس عقیدے ” رومن کیتھولک“ کے طور پر حقیر جانیں جاتے ہیں ۔
ارینیس نے تفرقہ کی سنجیدہ فطرت کو بیان کیا : ” وہ اُن کابھی انصاف کرے گا جو تفرقوں کو کھڑا کر تے ہیں ، جو خدا کی محبت سے محروم ہیں ، اور جو چرچ کی واحدانیت کی بجائے اپنے خاص فائدے پر نظر رکھتے ہیں ، اور جو ذرا سی وجوہات کے لیے ہیں ۔۔۔ وہ مسیح کے جلالی اور عظیم بدن کو ٹکڑوں میں کاٹتے اور تقسیم کر تے ہیں ، اور جہاں تک اُن میں جھوٹ کا تعلق ہے ، وہ اِ ن آدمیوں کو تباہ کر تے ہیں جو سلامتی کو بے تُکے پن سے کہتے ہیں جبکہ وہ جنگ کو برپا کر تے ہیں ، اور سچائی میں حقیر شے کو پوری قوت سے کھینچتے ہیں ، لیکن اونٹ کو نگل جا تے ہیں “ ( ارینیس ، بدعتوں کے خلاف ) ۔
ہم اِسے ثابت کرنے کی خواہش کے ساتھ آزاد فرقوں کے درمیان اکثر مظاہر پرستی کو پاتے ہیں کہ وہ دوسری کلیسیاﺅں سے افضل ہیں ۔ اِن معاملات میں ، مظاہر پرستی سادہ طرح احمق ہونے کی وجہ سے نہیں ہے ، بلکہ انسانی تکبر سے متاثر ہے ۔ یہاں اکثر چیدہ ، تجرد پسند ، مذہب ہے جو ایمان رکھتے ہیں کہ ” سچی مسیحیت “ ابتدائی کلیسیا میں تھی ، لیکن یہ غائب ہو ئی اور واپس صرف اپنے فرقے کی ظاہریت کے ساتھ وجود میں آئی ۔
مظاہر پرست مسلک ہیں کیونکہ وہ تاریخ میں روح القدس کے اختیار کے انکاری ہیں ۔ مظاہر پرست کا کلیسیائی نظریہ اپنے گروہ کی موجودگی تک مرتد ہونے کے طور پر تھا ، اور یہ یقین کہ پوری تاریخ میں کلیسیائی گواہی سے الگ روح القدس صرف اُن کے لیے آشکارہ کیا گیا ۔
کچھ معاملات میں ، مظاہر پرستی شاید سیبلین ازم کے ” الہیاتی عمل“ کے مفہوم کی طرف اشارہ کر تا ہے جو خدا کو خدا کے جلال میں خدا کے قانون سے سلجھانے کے طور پر دیکھتا ہے ۔
خدا نے پُرانے عہد نامے میں اپنے آپ کو کسی طرح سخت ، قانونی بنیاد کے باپ ہونے کے طور پر آشکارہ کیا ، پھر مسیح کے زمینی مجسم ہونے کے دوران فضل دینے والے بیٹے کے طور پر ، اور آج زندگی بخش روح القدس کی مانند ہے ۔ الہیات کا عمل برقرار ہے جیسے خدا اپنے آپ کو مختلف زمانوں میں مختلف پہلووں اور طریقہ کار کے زیر اثر آشکارہ کرتا ہے ، تخلیق میں باپ اور قانون دینےوالے کے طور پر ، یسوع مسیح میں بیٹے کے طور پر ، اور مسیح کے آسمان پر اُٹھائے جانے کے بعد روح القدس کے طور پر ۔
اِس مظاہر پرست نقطہ نظر سے ، بائبل کا قانون انسان کے ساتھ خدا کے برتاﺅ کی ابتدائی اور مزید ” قدیم“ مرحلہ کی نمائندگی کر تا ہے ، لیکن اب وہ انسان اور خدا دونوں ” پروان چڑھ “چُکے ہیں ، خدا انسان کے ساتھ فضل کے وسیلہ سے برتاو کرتا ہے ، نہ کہ قانون کے وسیلہ ۔ خدا کو غیر مادی اور اخلاقی تغیر کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ مظاہر پرستی تاریخی کفارہ کے واقعیات بناتی ہے ۔ یہ اِسی لیے ملحد ہے۔ اگر مسیح امتیاز کرنے والا شخص نہیں ہے ، ہمارے گناہوں کے لیے اُس کی موت اور جی اُٹھنا ، نشست سنبھالنا ، اور ہمارے لیے اُس کے لوگ ہونے کے طور پر شفاعت کرنا ،باطل ہیں ۔ با اصول مظاہر پرستی بائبل کے چھٹکارے پر ایک حملہ ہے ۔

تثلیث کے عقیدہ پر کچھ نتایج :
تثلیثیت اور مظاہر پرستی کے درمیان بحث کا ایک دیانتدار مطالعہ
سے یقینا بہت سے نتایج نکلتے ہیں 1 ۔ تثلیثیت ، ایک تجویز کر دہ تعلیم کے طور پر ،ظائر ہونے کے اُس وقت تک شروع نہ ہوئی جبکہ کہ ایک بدعتی فرقہ تقریبًا100
عیسوی میں ، چرچ کے لیے ایک سنجیدہ تخویف اندیشہ نہ بن گیا ۔ یہ تثلیث کا عقیدہ رکھنے والے تین کو ماننے والے نہیں تھے ( مثال کے طور پر ، تین الگ خداﺅں پر ایمان رکھتے ہوئے)، ابتدائی مسیحی پُر یقین تھے کہ خدا ایک تھا ۔ 2 ۔ شاہ پرستی عموماً بالکل اِسی دھکمی کا جواب تھا ، اُن کو غلط ثابت کرنے کی جدوجہد جہنوں نے یسوع مسیح کو لوگوز کے مجسم ہونے کو بنا نا تھا ( ایک یونانی فلاسفی اصطلاح) ، جسے ایک خاص گروہ سے دوسرے یا خدا سے کم تر ہونے کے طور پر پیش کیا گیا تھا ۔ شاہ پرستی اُس وقت تک کھُل کر سامنے نہ آئی جب تک کہ اُسی وقت تثلیث کے عقیدے کے طور پر یا کم از کم ایسا ہونے کے کچھ سالوں بعد تک ۔ 3 ۔ مظاہر پرستی درحقیقت شاہ پرستی کی اک شکل ہے ، اِس فرق کے ساتھ کہ خدا اپنے آپ کو تین صورتوں یا طریقوں میں بیان کرتا ہے ۔ مظاہر پرستی غالباتین کو ماننے والوں کی جانب سے پیش کی گئی مسیحی سوچ کے لیے پہلے سے قیاس کی گئی دھکمی کو حل کرنے کی جدو جہد تھی ، تین مختلف خداوں پر ایمان رکھنا ۔

4 ۔ نئے عہد نامے کے دور کے مسیحی ( 33۔96عیسوی) غالباً نہ ہی خود جان بوجھ کر تثلیثی تھے نہ ہی مظاہر پرست تھے ۔ یہ دونوں نظریات 33عیسویٰ کے شاگردوں کے تجربات سے باہر تکراری جواب کے بعد پےدا کئے گی الہیاتی تفصیل تھی۔
نئے عہد نامے کے شاگرد تثلیث کے بہت قدیم نظریہ کو قائم رکھے ہوئے تھے ۔ وہ خدا کے باپ ، بیٹے او ر روح القدس کی سوچ کے ساتھ قابو میں رکھے ہوئے تھے ، جیسے بہت سے حوالے اقتباسات کے لیے تصدیق کر تے ہیں ، لیکن یوحنا کی جانب سے اِس پر سکھائے جانے سے بالا تر اِس پر تفصیل کوبیان نہیں کرتے کہ : ” وہ تینوں ایک ہیں۔“
خدا کے تین ہونے کے تصور سے اُٹھائے گئے شعوری معاملات اُن کے تجربے سے بالا تر تھے ۔ اُن میں سے بہتیروں نے یسوع کو دیکھا تھا اور پینتیکوست کا تجربہ کیا تھا ۔ یہ کافی تھا ۔ کلام سے تثلیث کو ثابت کرنے والی تشریحی تعلیم 100عیسوی سے پہلے ضروری نہیں تھی ۔

اڈیٹر کا نوٹ: میں نے انڈریو سینڈلن کی تحریروں کو استعمال کیا جس کے مواد کو حصے میں اشاعت کے لیے ترتیب دیا گیا اور تشریح کی گئی : ” کیوں مظاہر پرستی ایک بدعت ہے ۔ “


Forerunner - Home » Urdu language Forerunner

Your comments are welcome!

Textile Help

Go Stand Speak (DVD)

With “preaching to the lost” being such a basic foundation of Christianity, why do many in the church seem to be apathetic on this issue of preaching in highways and byways of towns and cities?

Is it biblical to stand in the public places of the world and proclaim the gospel, regardless if people want to hear it or not?

Does the Bible really call church pastors, leaders and evangelists to proclaim the gospel in the public square as part of obedience to the Great Commission, or is public preaching something that is outdated and not applicable for our day and age?

These any many other questions are answered in this documentary.

$19.95 — ORDER NOW!

(We accept all major credit cards and PayPal.)

Click here for more information


Dr. Francis Schaeffer - A Christian Manifesto (DVD)

That Swiss Hermit Strikes Again!

Dr. Schaeffer, who was one of the most influential Christian thinkers in the twentieth century, shows that secular humanism has displaced the Judeo-Christian consensus that once defined our nation’s moral boundaries. Law, education, and medicine have all been reshaped for the worse as a consequence. America’s dominant worldview changed, Schaeffer charges, when Christians weren’t looking.

Schaeffer lists two reasons for evangelical indifference: a false concept of spirituality and fear. He calls on believers to stand against the tyranny and moral chaos that come when humanism reigns-and warns that believers may, at some point, be forced to make the hard choice between obeying God or Caesar. A Christian Manifesto is a thought-provoking and bracing Christian analysis of American culture and the obligation Christians have to engage the culture with the claims of Christ.

$19.95 — ORDER NOW!

(We accept all major credit cards and PayPal.)

Click here for more information


The Beast of Revelation IdentifiedThe Beast of Revelation: Identified (DVD)

Who is the dreaded beast of Revelation?

Now at last, a plausible candidate for this personification of evil incarnate has been identified (or re-identified). Ken Gentry’s insightful analysis of scripture and history is likely to revolutionize your understanding of the book of Revelation — and even more importantly — amplify and energize your entire Christian worldview!

Historical footage and other graphics are used to illustrate the lecture Dr. Gentry presented at the 1999 Ligonier Conference in Orlando, Florida. It is followed by a one-hour question and answer session addressing the key concerns and objections typically raised in response to his position. This presentation also features an introduction that touches on not only the confusion and controversy surrounding this issue — but just why it may well be one of the most significant issues facing the Church today.

Ideal for group meetings, personal Bible study — for anyone who wants to understand the historical context of John’s famous letter “… to the seven churches which are in Asia.” (Revelation 1:4)

Running Time: 145 minutes

$17.95 — ORDER NOW!

(We accept all major credit cards and PayPal.)

Click here for more information


Freedom: The Model of Christian Liberty (DVD)

“Give me liberty or give me death!”

Patrick Henry’s famous declaration not only helped launch the War for Independence, it also perfectly summarized the mindset that gave birth to, and sustained, the unprecedented experiment in Christian liberty that was America.

The freedom our Founders envisioned was not freedom from suffering, want, or hard work. Nor was it freedom to indulge every appetite or whim without restraint—that would merely be servitude to a different master. No, the Founders’ passion was to live free before God, unfettered by the chains of autocracy, shackles that slowly but inexorably bind men when the governments they fashion fail to recognize and uphold freedom’s singular, foundational truth: that all men are created in the image of God, and are thereby co-equally endowed with the right to “life, liberty, and the pursuit of happiness.”

This presentation is a similar call, not to one but many. By reintroducing the principles of freedom that gave birth to America, it is our prayer that Jesus, the true and only ruler over the nations, will once again be our acknowledged Sovereign, that we may again know and exult in the great truth that “where the Spirit of the LORD is, there is liberty” (2 Cor. 3:17).

Welcome to the Second American Revolution!

This DVD features “Liberty: The Model of Christian Liberty” along with “Dawn’s Early Light: A Brief History of America’s Christian Foundations.” Bonus features include a humorous but instructive collection of campaign ads and Eric Holmberg’s controversial YouTube challenge concerning Mitt Romney’s campaign for president.

$14.95 — ORDER NOW!

(We accept all major credit cards and PayPal.)

Click here for more information


The Four Keys to the Millennium (Book)

Foundations in Biblical Eschatology

By Jay Rogers, Larry Waugh, Rodney Stortz, Joseph Meiring. High quality paperback, 167 pages.

All Christians believe that their great God and Savior, Jesus Christ, will one day return. Although we cannot know the exact time of His return, what exactly did Jesus mean when he spoke of the signs of His coming (Mat. 24)? How are we to interpret the prophecies in Isaiah regarding the time when “the earth will be full of the knowledge of the LORD as the waters cover the sea” (Isa. 11:19)? Should we expect a time of great tribulation and apostasy or revival and reformation before the Lord returns? Is the devil bound now, and are the saints reigning with Christ? Did you know that there are four hermeneutical approaches to the book of Daniel and Revelation?

These and many more questions are dealt with by four authors as they present the four views on the millennium. Each view is then critiqued by the other three authors.

$12.95 — ORDER NOW!

(We accept all major credit cards and PayPal.)

Click here for more information

Share |

Search this site:
View CCNow Cart/Checkout
View CCNow Cart/Checkout

RSS
Subscribe to
The Forerunner

Have The Forerunner Weblog sent straight to your inbox!

Enter your email address:

YouTube
The Forerunner Channel on YouTube


Promote Your Page Too

Featured Product
If you like the articles on this website, you may also be interested in:

Featured Articles

Live Seminar!

Real Jesus
The Abortion Matrix DVD: Update

The Abortion Matrix:
Defeating Child Sacrifice and the Culture of Death

is a 195-minute presentation that traces the biblical roots of child sacrifice and then delves into the social, political and cultural fall-out that this sin against God has produced. You can order this series on DVD, read the complete script and view clips on-line...
continued ...


View My Stats